ابنا: بحرین کےانقلابی اورسیاسی گروہوں نے ایک نیاقدم اٹھاتےہوئے اس ہفتےکو ہفتہ استقامت کانام دیا ہے۔ آج پندرہ اپریل ہفتہ استقامت وپائداری کاپہلا دن ہے پروگرام کےمطابق مظاہرین آج سےسلماباد سےآل خلیفہ کےخلاف اپنےمظاہروں کاآغازکریں گے۔ الوفاق ، الوعد، الاخاء الوحدوی اورالقومی جیسے سیاسی گروہوں اور پارٹیوں نے بحرینی عوام کوآج سےشروع ہونےوالےمظاہروں کےنئےسلسلےمیں شرکت کی دعوت دی ہے اوراپنےمطالبات پورے ہونےتک ان مظاہروں کاسلسلہ جاری رکھنےپرتاکید کی ہے۔آل خلیفہ کی کال کوٹھریوں میں بند سیاسی قیدیوں کی رہائی بحرینی عوام کےاہم مطالبات میں سےایک ہے۔
گذشتہ چند دنوں سے بحرین کےمختلف علاقوں کےعوام مظاہرےکرکے عمرقیدکےخلاف دومہینےسےزيادہ عرصےسےبھوک ہڑتال کرنےوالےعبدالہادی الخواجہ کی رہائی کامطالبہ کررہے ہیں۔اس وقت ان کی جسمانی صورت حال نہایت خراب ہے اب تک انسانی حقوق کےکئی ادارے اورتنظیمیں آل خلیفہ سےان کی رہائی کامطالبہ کرچکی ہیں چونکہ الخواجہ ڈنمارک کی شہریت کےحامل ہيں اس لئے ڈنمارک کی حکومت نےبھی ان کی رہائی کامطالبہ کرتےہوئےانھیں اپنےملک کی تحویل میں دینےکامطالبہ کیاہے۔ آل خلیفہ نہ صرف ان مطالبات اوراپیلوں پرکوئی توجہ نہيں دے رہی ہے بلکہ سیاسی کارکنوں اورمظاہرین کومسلسل گرفتارکررہی ہے۔
بحرین کےایک سیاسی رہنماآیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے بھی واضح موقف اختیارکرتےہوئے اپوزیشن لیڈر حسن المشیمع اور عبدالھادی کوپہنچنےوالےکسی طرح کےنقصان کاذمہ آل خلیفہ حکومت کوقراردیاہے۔انھون نےکہاکہ کیاجوکچہ ملت بحرین پرگذر رہی ہے وہ ظلم اوردشمنانہ اقدام نہيں ہے ۔ کیا بحرین میں قیدیوں پرتشدد کیاجانا درست ہے یاان ایجنٹوں کی مدد کرنا اوران کاساتھ دیناصحیح ہے جودن رات بحرینی عوام کوزد وکوب کرتےہیں۔
شیخ عیسی قاسم نےتاکید کےساتھ کہاکہ بحرین میں بحران جتنا طول پکڑےگاملک کواتنا ہی نقصان پہنچےگااور اس کی ذمہ داری بھی آل خلیفہ حکومت پرعائد ہوتی ہے۔
انقلاب بحرین کےآغاز سےاب تک دسیوں افراد آل خلیفہ کےتشدد کےنتیجےمیں ہلاک یازخمی بھی ہوچکےہيں ان میں سےبعض بچے اورنوجوان ہیں۔ بحرین میں ان جرائم کاسلسلہ ایسےعالم میں جاری ہے کہ مغرب کےزیراثر صحافتی حلقے مسلسل سکوت اختیارکئےہوئے ہيں یا بحرین کےواقعات کوبرعکس پیش کرنےکی کوشش کرتےہیں تاکہ عالمی رائےعامہ کوآل خلیفہ کےجرائم کی نسبت گمراہ کرسکيں۔....... /169